Select Menu

اہم خبریں

clean-5

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Misc

Technology

ایمیزون کے جنگلات

 ایمیزون کے جنگلات، جو دنیا کے سب سے بڑے بارش والے جنگلات (Rainforest) ہیں، قدرت کا حیرت انگیز شاہکار ہیں۔ یہ جنگلات دنیا کے ماحول کے لیے بے حد اہم ہیں اور زمین کے پھیپھڑے کہلاتے ہیں۔ یہاں ایمیزون جنگلات کے بارے میں اہم معلومات پیش ہیں:


جغرافیہ

  • مقام:
    ایمیزون کے جنگلات جنوبی امریکہ میں واقع ہیں اور نو ممالک تک پھیلے ہوئے ہیں:
    • برازیل (سب سے بڑا حصہ)
    • پیرو
    • کولمبیا
    • وینزویلا
    • بولیویا
    • ایکواڈور
    • گیانا
    • سرینام
    • فرنچ گیانا
  • رقبہ:
    تقریباً 5.5 ملین مربع کلومیٹر، جو پورے یورپ کے برابر ہے۔

ماحولیاتی اہمیت

  • زمین کا 20 فیصد آکسیجن پیدا کرتا ہے۔
  • دنیا کی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کر کے ماحولیاتی توازن برقرار رکھتا ہے۔
  • عالمی موسمیاتی تبدیلی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

جانداروں کی حیاتیات

  • حیاتی تنوع:
    • 40,000 سے زائد پودوں کی اقسام
    • 400 سے زیادہ ممالیہ جانور
    • 1,300 پرندوں کی اقسام
    • 2.5 ملین کیڑے مکوڑے
    • دنیا کی تقریباً 10 فیصد جنگلی حیات ایمیزون میں پائی جاتی ہے۔
  • مشہور جانور:
    • جگوار
    • اینا کونڈا
    • ٹوکان پرندہ
    • پائیرانا مچھلی

ایمیزون دریا

  • ایمیزون دریا:
    • دنیا کا دوسرا سب سے بڑا دریا۔
    • 6,575 کلومیٹر لمبا۔
    • لاکھوں جانداروں کی زندگی کا مرکز۔

چیلنجز

  1. جنگلات کی کٹائی:
    • زراعت اور مویشی پالنے کے لیے درختوں کی بڑے پیمانے پر کٹائی۔
  2. آگ:
    • انسانی سرگرمیوں اور قدرتی عوامل کی وجہ سے ہر سال جنگلات میں آگ لگتی ہے۔
  3. ماحولیاتی تبدیلی:
    • گلوبل وارمنگ کی وجہ سے جنگلات کے ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

دلچسپ حقائق

  • ایمیزون کے جنگلات زمین کی کل بارش والے جنگلات کا 50 فیصد حصہ ہیں۔
  • کچھ قبیلے اب بھی ان جنگلات میں رہتے ہیں جو دنیا سے کٹ کر اپنی روایتی زندگی گزار رہے ہیں۔
  • یہاں موجود کچھ درخت 1,000 سال سے بھی زیادہ پرانے ہیں۔

مسلمان سائنسدان

 مسلمان سائنسدانوں کی خدمات دنیا کی تاریخ میں سنہری الفاظ میں لکھی گئی ہیں۔ انہوں نے مختلف علوم میں انقلابی تحقیقات کیں اور علم کی دنیا کو ایک نئی سمت دی۔ یہاں چند مشہور مسلمان سائنسدانوں اور ان کی خدمات کا ذکر کیا گیا ہے:  

---

1. ابن سینا (980-1037 عیسوی)  

- شعبہ: طب، فلسفہ، اور طبیعات  

- کارنامے:  

  - "القانون فی الطب" لکھی، جو صدیوں تک طب کی مستند کتاب رہی۔  

  - جسمانی و روحانی بیماریوں کے علاج پر کام کیا۔  

- لقب: طب کا باپ  

---

2. محمد بن موسیٰ الخوارزمی (780-850 عیسوی)  

- شعبہ: ریاضی، فلکیات  

- کارنامے:  

  - الجبرا کا بانی  

  - "الگورتھم" کا تصور دیا، جو کمپیوٹر سائنس میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔  

  - "کتاب المختصر فی حساب الجبر والمقابلہ" تحریر کی۔  

---

3. جابر بن حیان (721-815 عیسوی)  

- شعبہ: کیمیا  

- کارنامے:  

  - کیمیا میں تجرباتی طریقے متعارف کروائے۔  

  - تیزاب اور کئی کیمیائی عملوں کی دریافت کی۔  

- لقب:کیمیا کا باپ  

---

4. ابو ریحان البیرونی (973-1048 عیسوی)  

- شعبہ: فلکیات، ارضیات، ریاضی  

- کارنامے:  

  - زمین کی گردش اور قطر کے متعلق نظریات پیش کیے۔  

  - "کتاب الہند" لکھی، جس میں ہندوستانی ثقافت اور علم کو بیان کیا۔  

---

5. ابن الہیثم (965-1040 عیسوی)  

- شعبہ: بصریات، طبیعیات  

- کارنامے:  

  - روشنی کے اصول دریافت کیے۔  

  - کیمرہ اوبسکیورا کی ایجاد میں مدد کی۔  

  - "کتاب المناظر" تحریر کی۔  

---

6. ابو بکر الرازی (865-925 عیسوی)  

- شعبہ: طب، کیمیا  

- کارنامے:  

  - چیچک اور خسرہ جیسی بیماریوں پر تحقیق کی۔  

  - "کتاب الحاوی" لکھی، جو طب کی دنیا میں مشہور ہے۔  

---

7. عمر خیام (1048-1131 عیسوی)  

- شعبہ: فلکیات، ریاضی، شاعری  

- کارنامے: 

  - کیلنڈر اصلاحات پر کام کیا۔  

  - مثلثیات اور جیومیٹری میں نمایاں خدمات انجام دیں۔  

---

مسلمان سائنسدانوں کا اثر 

مسلمان سائنسدانوں نے علم کی دنیا کو نئی جہتیں دیں اور ان کے کام نے یورپی نشاة ثانیہ میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی خدمات آج بھی جدید سائنس کی بنیاد ہیں اور ان کے نظریات پر تحقیق جاری ہے۔  


ZINDAGI

 زندگی کے بارے میں چند اشعار پیش ہیں:  


---


زندگی خواب ہے، خوابوں میں حقیقت کی طرح  

چلتے رہنا ہے مگر منزل ہے کس سمت کی طرح  


---


زندگی درد بھی ہے، زندگی راحت بھی  

یہ سمندر کی طرح گہری، ہوا کی صورت بھی  


---


زندگی کو سمجھو تو آسان ہے،  

ورنہ ہر موڑ پر امتحان ہے  


---


زندگی کا راز چھپا ہے جستجو میں کہیں  

ہر قدم ایک نئی منزل کا پتہ دیتا ہے  


---


مسجد میں آنے کی فضیلت

 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’آدمی جب اپنے گھر سے مسجد کے لیے نکلتا ہے اور قدم اٹھاتا ہے تو (ہر قدم کے لیے) ایک پاؤں اٹھانے پر نیکی لکھی جاتی ہے اور دوسرا پاؤں اٹھانے پر ایک برائی مٹائی جاتی ہے۔‘‘.


«سنــن النسائی -706»

ملک کے مسائل حل کرنے کیلئے منصوبہ

 


بند دکان کے تھڑے پر بیٹھے دو بوڑھے آپس میں باتیں کرتے ہوئے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہے تھے کہ ایک متجسس راہگیر نے ان سے اتنا خوش ہونے کی وجہ پوچھ لی۔ 


ایک بوڑھے نے بمشکل اپنی ہنسی پر قابو پاتے ہوئے کہا: ہمارے پاس اس ملک کے مسائل حل کرنے کیلیئے ایک شاندار منصوبہ ہے۔ 


اور وہ منصوبہ یہ ہے کہ ساری قوم کو جیل میں ڈال دیا جائے اور ان سب کے ساتھ ایک گدھا بھی جیل میں ڈالا جائے۔ 


راہگیر نے حیرت سے دونوں کو دیکھا اور پوچھا: ان سب کے ساتھ ایک گدھے کو کیوں قید کیا جائے؟


دونوں بوڑھوں نے فلک شگاف قہقہہ لگاتے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھا، اور ایک بوڑھے نے دوسرے سے کہا: 


دیکھا رحیمے: آگیا یقین تجھے میری بات پر، میں نہیں کہتا تھا کہ بخدا اس قوم کے بارے میں کوئی بھی نہیں پوچھے گا۔

دل کی بےچینی کو سکون میں تبدیل کرے

 


ایک نیک اور مالدار شخص نے اپنا قصہ لکھا ہے کہ… ایک دن میرا دل بہت بے چین ہوا… ہر چند کوشش کی کہ دل بہل جائے، پریشانی کا بوجھ اُترے اور بے چینی کم ہو، مگر وہ بڑھتی ہی گئی… بالآخر تنگ آکر باہر نکل گیا اور بے مقصد اِدھر اُدھر گھومنے لگا، اسی دوران ایک مسجد کے پاس سے گذراتو دیکھا کہ دروازہ کھلا ہے… فرض نمازوں میں سے کسی کا وقت نہیں تھا، میں بے ساختہ مسجد میں داخل ہوا کہ وضو کر کے دو چار رکعت نماز ادا کرتاہوں، ممکن ہے دل کو راحت ملے… وضو کے بعد مسجد میں داخل ہوا تو ایک صاحب کو دیکھا… خوب رو رو کر گڑ گڑا کر دعاء مانگ رہے ہیں اور کافی بے قرار ہیں… غور سے ان کی دعاء سنی تو قرضہ اتارنے کی فریاد میں تھے… اُن کو سلام کیا، مصافحہ ہوا، قرضہ کا پوچھا… بتانے لگے کہ آج ادا کرنے کی آخری تاریخ ہے اپنے مالک سے مانگ رہا ہوں… اُن کاقرضہ چند ہزار روپے کا تھا وہ میں نے جیب سے نکال کر دے دیئے… ان کی آنکھوں سے آنسوچھلک پڑے…اور میرے دل کی بے چینی سکون میں تبدیل ہو گئی… میں نے اپنا وزیٹنگ کارڈ نکال کر پیش کیا کہ آئندہ جب ضرورت ہو مجھے فون کر لیں… یہ میرا پتا ہے اور یہ میرا فون نمبر… انہوں نے بغیر دیکھے کارڈ واپس کر دیا اور فرمایا… نہ جناب! یہ نہیں… میرے پاس اُن کا پتا موجود ہے جنہوں نے آج آپ کو بھیجا ہے… میں کسی اور کا پتا جیب میں رکھ کر اُن کو ناراض نہیں کر سکتا…


سلطان محمود غزنوی شہنشاہِ افغان

 


ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﻏﺰﻧﻮﯼ ﮐﻮ ﮐﺎﻓﯽ ﮐﻮﺷﺸﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ

ﺟﺐ ﻧﯿﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻏﻼﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﻟﮕﺘﺎ ہے کہ ﮐﺴﯽ مظلوم ﭘﺮ ﺁﺝ ﮐﻮﺋﯽ ﻇﻠﻢ ہوا ہے۔ ﺗﻢ ﻟﻮﮒ ﮔﻠﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻞ ﺟﺎﺅ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﯾﺎﺩﯼ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺍُﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﻟﮯ ﺁﺅ۔ 

ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﺳﺐ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﮐﺮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ : " ﺳﻠﻄﺎﻥ، ہمیں ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﻓﺮﯾﺎﺩﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻼ، ﺁﭖ ﺁﺭﺍﻡ ﺳﮯ ﺳﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔ "

ﺳﻠﻄﺎﻥ ﮐﻮ ﺟﺐ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﯿﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﭙﮍﮮ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﺧﻮﺩ ﻣﺤﻞ ﺳﮯ ﺑﺎﮬﺮ ﻧﮑﻼ۔ ﻣﺤﻞ ﮐﮯ ﭘﭽﮭﻮﺍﮌﮮ ﻣﯿﮟ ﺣﺮﻡ ﺳﺮﺍ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺍُنہیں ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﻓﺮﯾﺎﺩ ﺳﻨﺎﺋﯽ ﺩﯼ : " ﺍﮮ اللہ ! ﺳﻠﻄﺎﻥ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ

ﻣﺼﺎﺣﺒﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺤﻞ ﻣﯿﮟ ﻋﯿﺶ ﻭ ﻋﺸﺮﺕ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭ ﺭہا ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻞ ﮐﮯ ﻋﻘﺐ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ یہ ﻇﻠﻢ ﺗﻮﮌﺍ ﺟﺎ ﺭہا ہے۔ "

ﺳﻠﻄﺎﻥ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : "ﮐﯿﺎ ﺑﺎﺕ ﮐﺮرہے ہو؟ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻤﻮﺩ ہوﮞ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻓﺮﯾﺎﺩﺭﺳﯽ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺁﯾﺎ ﮬﻮﮞ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺘﺎﺅ ﮐﯿﺎ ﻇﻠﻢ ﮬﻮﺍ ﮬﮯ

ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮫ؟ "

" ﺁﭖ ﮐﮯ ﺧﻮﺍﺹ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﺎ ہر ﺭﺍﺕ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﺁﺗﺎ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﻮﯼ ﭘﺮ ﻇﻠﻢ ﻭ ﺗﺸﺪّﺩ ﮐﺮﺗﺎ ہے۔ "

"ﺍِﺱ ﻭﻗﺖ ﻭﮦ ﮐﮩﺎﮞ ﮬﮯ؟"

" ﺷﺎﯾﺪ ﺍﺏ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﮬﻮ۔"

" ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﻓﻮﺭﺍً ﺁ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻃﻼﻉ ﮐﺮ ﺩﻭ۔ " ﭘﮭﺮ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﻧﮯ ﻣﺤﻞ ﮐﮯ ﺩﺭﺑﺎﻥ ﮐﻮ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺩﮐﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ کہ ﺟﺐ بھی یہ دربار ﺁﺋﮯ ﺍﺳﮯ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﻭ۔ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯽﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮬﻮﮞ ﺗﻮ ﭘﺮﻭﺍﮦ ﻣﺖ ﮐﺮﻭ۔

ﺍﮔﻠﯽ ﺭﺍﺕ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺘﺎﯾﺎ کہ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ہے۔

ﺳﻠﻄﺎﻥ ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﺗﻠﻮﺍﺭ ہاتھ ﻣﯿﮟ ﻟﺌﮯ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻞ ﭘﮍﺍ۔ ﺟﺐ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ کہ ﮔﮭﺮ کے ﺳﺎﺭﮮ ﭼﺮﺍﻍ ﺑﺠﮭﺎ ﺩﻭ۔ ﭘﮭﺮ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮬﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺲ ﮐﺮ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﺳﺮ ﺗﻦ ﺳﮯ ﺟﺪﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔

ﭘﮭﺮ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﻧﮯ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ کہ ﭼﺮﺍﻍ ﺭﻭﺷﻦ ﮐﺮ ﺩﻭ۔ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﮔﺮ ﭘﮍﺍ۔

ﭘﮭﺮ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ : " ﺍﮔﺮ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﮬﮯ ﺗﻮ ﻟﮯ ﺁﺅ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ ﺳﺨﺖ ﺑﮭﻮﮎ ﻟﮕﯽ ﮬﮯ۔ "

" ﺁﭖ ﺟﯿﺴﺎ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﻣﺠﮫ ﻏﺮﯾﺐ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﺋﮯ ﮔﺎ؟"

" ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ہے، ﻟﮯ ﺁﺅ "!

ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﮐﮭﯽ ﺭﻭﭨﯽ ﺍﭨﮭﺎ ﻻﯾﺎ ﺟﺴﮯ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﺭﻏﺒﺖ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﯾﺎ۔ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﻟﮕﺎ کہ ﭼﺮﺍﻏﻮﮞﮐﻮ ﺑﺠﮭﺎنا، ﺳﺠﺪﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﭨﯽ ﻃﻠﺐ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺁﺧﺮ ﮐﯿﺎ

ﻣﺎﺟﺮﺍ ﮬﮯ؟ سلطان نے فرمایا:

"ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﺳﻨﯽ ﺗﻮ ﺳﻮﭼﺎ کہ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﻇﻠﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ہمّت ﺻﺮﻑ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﺴﯽ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ہوﺳﮑﺘﯽ ﮬﮯ۔ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﭘﺪﺭﺍنہ ﺷﻔﻘﺖ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺋﻞ نہ ہوجائے۔ ﭼﺮﺍﻍ ﺟﻠﻨﮯ ﭘﺮ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ کہ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﯿﭩﺎ ﻧﮩﯿﮟ ہے ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺳﺠﺪۂ ﺷُﮑﺮ ﺑﺠﺎﻻﯾﺎ۔ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻣﺎﻧﮕﺎ کہ ﺟﺐ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﺼﯿﺒﺖ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ ہوا، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍللہ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻗﺴﻢ ﮐﮭﺎﺋﯽ ﺗﮭﯽ کہ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻭﭘﺮ ﺭﻭﭨﯽ ﺣﺮﺍﻡ ہے۔ ﺍُﺱ ﻭﻗﺖ

ﺳﮯ ﺍﺏ ﺗﮏ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ نہ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ نہ 

پانی ﭘﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔اور آج کل کے حکمران، میں اس سے ذیادہ کچھ نھیں لکھونگا

”تجھے آبا سے اپنے کوٸی نسبت ھو نھیں سکتی“