سلطان صلاح الدین ایوبی جب مصر کے گورنر بنے تو ان کے اعزاز میں پھول نچھاور کرنے کیلیۓ نوجوان لڑکیاں مدعو کی گٸیں۔سلطان یہ سب دیکھ کر غصہ ہوۓ اور فرمایا یہ دستار پہننے کے بعد مجھ پر آرام حرام ہے۔میں یہاں پھول مسلنے نہیں آیا اگر میرے پاٶں میں کچھ بچھانا ہی ہے تو صلیبیوں کی لاشیں بچھاٶ جس سے مجھے دلی سکوں حاصل ہو گا۔ان لڑ کیوں کو میری نظروں سے دفع کر دو اگر میری تلوار ان کے بالوں سے الجھ گٸ تو اس کا اثر ختم ہو جاۓ گا۔تم کیا چاہتے ہو فلسطین کی طرح مصر کا جھنڈا بھی صلیبیوں کو کچلنے کیلیۓ د دیا جاۓ؟۔آپ کے جسم پر پھوڑے نکل آۓ مگر فرمایا جب میں گھوڑے پر سوار ہوتا ہوں تو مجھے تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔جب انگلستان کے شہزادے حاجیوں کے قافلے پر حملہ کرتے ہوۓ کہا کہ بلاٶ اپنے نبیّ کو تو سلطان نے کہا قسم ہم ہے مجھے جب تک اس کتے کے ٹکڑے نہ کر ڈالوں مجھ پر نیند حرام ہے تو آپؒ پورے دو سال چار پاٸ پر آرام نہیں کیا جب رچرڈ سے جنگ ہوٸ تو تلوار سے اسکے ٹکرے کرتے ہوۓ فرمایا” آ گیا رسول اللہّ کا نوکر“
ایک بار درودشریف پڑھنے سے ﷲ تعالیٰ دس مرتبہ رحمت فرماتا ہے
کوئی تبصرے نہیں: