کب ہم اپنے حصے کی دھوپ پوری کر بیٹھتے ہیں ..
کب آخری نوالہ حلق سے اترتا ہے
کب آخری سانس لیتے ہیں
کب آخری بات کرتے ہیں
کب آخری گھونٹ بھرتے ہیں
کب آخری میٹھی سرگوشی کان میں رس گھولتی ہے
کب آخری جوڑا پہنتے ہیں
کب آخری دفعہ بال بناتے ہیں
کب آخری دفعہ سجتے سنورتے ہیں
جب بھی کوئی چلا جاتا ہے تو ہم سب کہتے ہیں آخری دفعہ جب میں اس سے ملا یا ملی تو مرحوم سے یہ بات ہوئی..
لیکن مرحوم کو پتا نہیں چلتا کہ وہ اپنی آخری بات کہہ چکا
آخری کام کر چکا
سوچیں کیا ہم نے کسی سے کوئی آخری بات بہت سخت تو نہیں کر دی
کہیں کسی کے کانوں میں ہماری آخری سرگوشی کڑوی تو نہیں تھی
کیا ہمارا آج تک کا آخری نوالہ حرام کا تو نہیں تھا. .
ہمارا آخری گھونٹ صبر کا تھا یا شکر کا
ہمارا آخری کلام سلام سلام تھا یا نفرت سے آلودہ. .
ہم میں سے کسی کو پتا نہیں چلتا کہ ہم کب اپنا آخری کام کر چکتے ہیں. .....
اپنے ارد گرد کے ماحول معاشرے اور عزیز و اقارب کے دلوں میں آخری نقش محبت کا ثبت کیجئے. .
اپنے لیے محبت سے دعا کرنے والے دلوں کی فصل تیار کر جائیے... ..
پیسہ نہیں لوگ کمائیں. ..رشتے کمائیں. . دعائیں کمائیں..
کوئی تبصرے نہیں: